250

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں گوجرانوالہ کا پہلا نمبر

ساگر کنارے
فیصل فاروق ساگر 03323006937

پنجاب میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سے متعلق انتہائی تشویش ناک اعدادو شمار سامنے آئے ہیں جو محکمہ داخلہ پنجاب نے جاری کئے ہیں جن کے مطابق بچو ں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں گوجرانوالہ پنجاب بھر میں پہلے نمبر پر آگیاہے جبکہ محکمہ داخلہ پنجاب کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبے میں لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں سے زیادتی کے کیس زیادہ ہیں، لڑکوں سے زیادتی کا تناسب 69 فیصد جبکہ لڑکیوں سے زیادتی کا تناسب 31 فیصد رہا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں زیادتی کے سب سے زیادہ مقدمات گوجرانولہ میں درج ہوئے جبکہ زیادتی کے سب سے کم مقدمات راولپنڈی اور لاہور میں درج ہوئے۔محکمہ داخلہ پنجاب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں سے زیادتی کے کئی واقعات رپورٹ بھی نہیں ہوتے، خوف اور معاشرتی مسائل کی وجہ سے بھی بہت سے واقعات کے مقدمات رجسٹرڈ نہیں ہوتے، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ والدین کا بچوں کا میڈیکل کرانے پر رضامندنہ ہونا بھی جنسی زیادتی کے مقدمات میں ایک رکاوٹ ہے، ایسے واقعات بچوں کو تنہائی کی طرف لے جاتے ہیں اور انکی شخصیت تباہ ہو کر رہ جاتی ہے، دیکھا جائے تو رپورٹ کا ہر لفظ ہمارے معاشرے میں بچوں کے لئے سنگینی اور خطرے کی عکاسی کر ر ہا ہے ہمارے ملک میں جنسی مواد کی فراوانی اور آسانی سے موبائل میں دستیابی نے ایک ہیجان برپا کررکھا ہے،معاشرے میں نکاح اور شادی مشکل ترین کام بن جانے کے باعث جنسی بے راہ روی عام ہوچکی ہے، سرپر سیکس کا بھوت سوار ہو تو کسی قانون ضابطے اور اخلاقیات کی کوئی تمیز اور خوف باقی نہیں رہتاچنانچہ ملک میں اس حوالے سے سخت ترین قوانین بنانے اور نئی قانون سازی کے باوجود ایسے واقعات کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھ رہے ہیں اکثر والدین عزت بچانے کے لئے ایسے واقعات کا مقدمہ ہی درج نہیں کراتے لیکن اگر زیادتی کا شکار ہونے والے بچے یا بچی کے والدین ہمت کر کے سزا دلوانے کی کوشش بھی کریں تو پولیس اور نظام عدل کی خامیاں انصاف کے حصول میں دیوار بن کر حائل ہیں لیکن صرف اتنا ہی کہہ دینا کافی نہیں۔۔۔ والدین کی جانب سے انکا بھی غیر ذمہ دارانہ کردار اس قسم کے واقعات کے رونما ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے بچوں کو اچھے برے کی تمیز دینا اور ان پر مکمل نظر رکھنا والدین کی اولین ذمہ داری ہے آج کے انٹرنیٹ کے دور میں جب بچے بہت سا ممنوعہ میٹریل دیکھ رہے ہیں اورانکے سامنے کیا کیا نہیں چل جاتا لیکن دوسری جانب ہم بچوں کو سیکس ایجوکیشن یا اپنے جنسی تحفظ کے لئے دو لفظ تک سکھانے یا بتانے پر آمادہ نہیں بلکہ والدین تو کیا گھر کے کسی فرد کے پاس بھی اب دوسرے فرد کے ساتھ بات تک کرنے کا وقت نہیں رہا اور موبائل کی دنیا کے کنویں کے وہ مینڈک بن چکے ہیں جو باہر کے ماحول سے الگ تھلگ اور کٹ کے رہ چکے ہیں، رپورٹ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بچوں جن میں لڑکے زیادہ جنسی زیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں اور انکے قریبی لوگ جن میں مدارس یا دیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ، قریبی رشتہ دار، ہمسائے اور دیگر لوگ شامل ہیں گھر میں جب بچوں کو تعلیم دینے کے لئے آنے والا استاد کے بھیس میں وحشی درندہ بچے بچوں کو چٹکیاں بھرنے سے اپنی واردات شروع کرتا ہےتو والدین بچے کی شکایت یا اسکی پریشانی کو خاطر میں کیوں نہیں لاتے اور کہاں سوئے ہوتے ہیں؟؟؟بچوں کو جنسی زیادتی سے بچانے کے لئے والدین اور بچوں کے درمیان رابطے کارشتہ بحال کرنا ہوگا والدین کو اپنے اندریہ احساس بیدار کرنا ہو گا کہ ہم ایک تباہ حال اور دوزخ نما معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ہوس حرس اور نفسانی خواہشات کی رو میں بہہ کر ہم نے اس معاشرے کو ننھے بچوں کے لئے ”جہنم“ کی شکل دے دی ہے اور حالت یہ ہے کہ ہمارے بچے اپنے استاد کے ہاتھوں محفوظ رہے ہیں نہ ہی انہیں قریب ترین رشتے داروں عزیز و اقارب یا ہمسائے ہی سے تحفظ حاصل ہے۔۔۔ پھر اس”دوزخ“میں ماں باپ بچوں کو محض انکے حال پر کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں