146

الیکشن 2023:ء کفر ٹوٹا، لیکن…!

شکرالحمدللّٰہ، کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔ ٹوٹا تو ہے لیکن بلند درجے پر آئین و عدل سے تباہ کن حکومتی و سیاسی بے آئینی اور لاقانونیت کے کھلواڑ کے بعد۔ اسی گراف پر مہنگائی، بے روزگاری اور فسطائیت میں جکڑے عوام کی حالت زار تادم بہت تشویشناک ہے۔ دوسری جانب پہلے سے ہی اور گزشتہ ڈیڑھ سالہ راج میں مزید آسانیاں آسودگی سمیٹتی پاکستانی اولیگارکی (مافیہ راج) خود غرضی و خود پرستی میں غرق ہے۔

 اب حکومت، حکومت چھوڑنے پر آئینی اعتبار سے تو مجبور ہے ہی لیکن اس سے چمٹنا خود اندازوں کے مطابق بڑے گھاٹے کاسودا ہے۔ اب تو یہ کڑوی گولی اولیگارکی نےنگلنی ہی ہے۔ سو مقتدر اعلیٰ کے اعلان کے مطابق حکومت کا جانا اور الیکشن کا بمطابق آئین ہونا ٹھہر گیا ہے۔ بڑا اطمینان اسے یہ ہے کہ اس کا ڈیڑھ سال کوئی گھاٹے کا سودا نہیںرہا،مملکت اورعوام جتنےبڑے خسارے میں (آئے نہیں) جکڑے گئے، اتنا ہی پاکستانی اولیگارکی حکومت اس کی من مرضی کے مطابق بھرپور اور ’’ثمر آور‘‘ ثابت ہوئی۔

 ووٹ بینک تو ضرور اجڑا ہی، اتنا ہی جتنا ملکی خزانہ، لیکن اس کی اپنی سکہ بند مقدمات اور قانون کی گرفت سے نجات، پھر اگلی نسل کی حکمرانی کیلئے رونمائی اور کھلواڑ حکومت و سیاست کی ابتدائی تربیت کا جو سنہری موقع ملا، اس کا مکمل دھماچوکڑی سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ اب یہ جو پی ڈی ایم حکومت اپنے تئیں عوام کو بے بس اور ریاستی اداروں کو اپنے ڈھب پر لا کر بوریا بستر باندھ رہی ہے اس کے بعد کا بندوبست بھی اپنی جانب سے تو جاتے جاتے کیا جا رہا ہے کہ انتخابی عمل کے نگران بھی ٹیلر میڈ قانون سازی جیسے مرضی کے نتائج کی طرح اتنے ہی مطلب کے انتخابی نتائج نکالنے والے گھر سے ہی مل جائیں۔

اپنا ہی وزیر خزانہ ووٹ بحال کرنے کیلئے مطلوب نتائج نکالنے کی بجائے الٹا کام دکھا گیا تو مداوا یہی ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا جیسے نگران لا کر مرضی، مطلب کے الیکشن رزلٹ لینے کی تیاری کی جائے۔ اس سے قبل پندرہ ماہ طویل ریکارڈڈ پری پول دھاندلی کی تیاری تو مثالی کی گئی ہے۔ ایسی کہ مقابل ملک گیر مقبولِ عام پارلیمانی قوت گھڑی مقدمے یا یونیورسٹی کیس سے ’’مائنس ون‘‘ کے زور دار پروپیگنڈے سے پوری پارٹی اور لیڈر شپ کو ہی ’’الطافی ذہن‘‘ سے ٹھوک دیا جائے۔ اگر توشہ خانے کی کاروں کی چوری کا مدعا کھل گیا تو؟ کیا یہ نہیں کھلے گا؟ لیکن ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ مرضی کی غیر آئینی قانون سازی عدالتی نظام کو مفلوج اور نگرانوں کو اپنے آئینی فریضے کے علاوہ دھما چوکڑی مچانے کیلئے جو فری ہینڈ دیا گیا اور جتنی پری پولنگ تیاری پورے اولیگارکی دور میں جاری رہی ہے، اس کے فالو اپ میں اب پولنگ ڈے کی فن کاریوں والے جس امکانی الیکشن کا اعلان اقبال کی ملی شاعری میں لپیٹ کرکیا جا رہا ہے، یہ سب کچھ ہوگیا تو پھر کیا ہوگا؟ جواب، سیاسی و معاشی عدم استحکام کا صرف تسلسل نہیں، اس میں فوری بڑے درجے کا اضافہ، سب سہانے خواب چکنا چور اور ہوائی قلعے مسمار لازم۔

اولیگارکی کے پارٹنر ملنے والے کیک پیس پر جتنی اور جس طرح نظر لگائے ہوئے ہیں وہ اتنی ہی قابل دید ہے جتنا چھپایا جا رہا ہے۔ آج کچھ چھپائے نہیں چھپتا۔ اسی سے تو لگ رہا ہے کہ نیت کیا ہے۔ آخر مولانا صاحب نے گھر بیٹھے دبئی سُود وسودے اور مکر وفن کو بھانپ ہی لیا۔

 تو وہ بڑے کیک پیس کی آس کیوں نہ لگائیں۔ آخر آگ اور پانی کو ملا کر ’’آب حیات‘‘ میں تبدیل کرنے کی فنکاری کس نے کی؟ اس ان ہونی کو ہونی کرنے کے مقابل بے اختیار محض ٹھاٹھ باٹھ والا عہدہ صدارت یا ایک آدھ پرکشش وزارت پر ہی اکتفاکیا جائے گا؟ انتشار کی سیاست سے اتحاد اور اس سے ’’اپنی حکومت‘‘ نکالنا کوئی آسان ہے؟ جو ایک چھوٹی گورنر ی اور چند نشستوں پر اکتفا کرلیا جائے۔ اور یہ جو ’’مقتدر اعلیٰ‘‘ نے اپنے خاتمہ حکومت اور الیکشن کمیشن کی نیت سے بے خبری کی گنجائش کے ساتھ، الیکشن بمطابق آئین کا کھلا عندیہ چار سالہ بربادی اور بارودی سرنگوں جیسی لوڈڈ غیر ذمے دارانہ زبان وکلام سے دیا ہے، یہ شیشے کے گھر سے پتھرائو والی بات نہیں؟ فقط یہ کہنے یا صحافیوں سے الٹا یہ سوال کرنے کہ بہت سیدھی سادی اور پکی سچی بات یہی ہے کہ اپنی اپنی سیاسی وابستگی، پسند نہ پسند کی جمہوری حقیقت اپنی جگہ، اگر الیکشن ۔23 مکمل بمطابق آئین اور روایتی حربوں، ہتھکنڈوں کو ترک کرکے عین بمطابق آئین نہ ہوئے تو 1977اور 1971 کے انتخابی نتائج پر ردعمل اور اس کے نتائج و خسارےکو ذہن نشین کرنا ناگزیر ہے۔ 

کسی کا اعتبار اور رٹ تو رہی نہیں، اس پیچیدہ صورتحال میں اگر واقعی ملک میں سیاسی و معاشی گمبھیر بحران کی رزلٹ اورینٹڈمینجمنٹ مقصود ہے تو آئینی روح اور بنیادی تقاضوں کے مطابق مکمل پارٹیسپٹری اپروچ اختیار کرکے آزاد، غیر جانبدار، شفاف انتخابی عمل کو ہر حالت میں یقینی بنانا ہوگا۔ متعلقہ نالج کے مطابق یہ ہی اپروچ ترقی ٔ جاریہ کی ضمانت ہے۔ بس یہ ہی بڑا اور آخری موقع ہے کہ پاکستان عشروں میں نہیں برسوں میں بحران سے نکالا جاسکتا ہے۔ یہاں پر پورے ملک کے عوام تو متفق لیکن بااختیار اور مخصوص روایتی مفادات کے حامل اسٹیک ہولڈرز کو آمادہ ہونا ہی پڑے گا۔

 اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ انا اور خوف دونوں کو ختم کرنا ہی ہے۔ یہ متذکرہ قومی ضرورت پوری ہوگئی تو سب اور جلد درست ہو جائے گا۔ یہ ہی صراط مستقیم اور فلاح کی راہ ہے۔ رہا بحران ختم یا کم کرنے کا کریڈٹ،یہ سب کا پیدا کردہ ہے اور سب نے ہی اب اسے سنبھالنا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ دوست ممالک میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ہی اعتبار ہے کہ بحران سے نکلنےکیلئے جو مانگا سیاسی حکومتی کوششوں سے نہیں مل رہا تھا، وہ چیف صاحب کی کوشش سے مل گیا، لیکن یہ کفارہ مکمل نہیں۔ ابھی پاکستان کو ترقی کی پٹری پر لانے کیلئے متذکرہ لکھا، کرنا ہی پڑے گا۔ وما علینا الالبلاغ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں