162

مہنگائی کے مارے عوام اورنئی ”فارچونرز“گاڑیاں

فیصل فاروق ساگر/ساگر کنارے

  • فیصل فاروق ساگر* 03323006937
    سینئر صحافی امتیاز اعوان کا فون آیا تو بڑے رنجیدہ معلوم ہو رہے تھے۔۔۔ حال احوال دریافت کرنے کے بعد افسوس کے ساتھ کہنے لگے کہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی جاتے جاتے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے ڈپٹی کمشنر ز کے لئے نئی”فارچونرز“ گاڑیوں کے احکامات جاری کر گئے تھے جن پر موجودہ نگران حکومت نے بھی عمل کرنا بھی اشدضروری سمجھاہے، امتیاز اعوان بولتے گئے اور میں خیالات کی رو میں بہتے ہوا سوچنے لگا کہ عوام کی حالت اور حکمرانوں کے فیصلوں میں کہیں بھی کوئی مماثلت نہیں، پنجاب کے علاوہ وفاق اور دیگر صوبوں میں حکمرانوں اورسرکاری افسران کے شاہانہ اخراجات، پروٹوکول، گاڑیوں، مفت پٹرول، مفت بجلی کے یونٹس،سفری اخراجات صحت کی سہولیات اور دیگر مراعات کا حساب لگانا تو درکناران کو شمار تک نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ جبکہ عوام کی حالت یہ ہے کہ مہنگائی نے انکی سانسیں تک کھینچ لی ہیں۔۔میں اشرافیہ کی دنیا میں بلا اجازت جھانکتا چلا گیا۔۔۔۔ یہاں حکمرانوں،افسرشاہی اور ارب پتیوں کی دنیا جہاں وسائل اختیار اور طاقت کے جیسے چشمے پھوٹ رہے ہیں ہر طرف عیش ہی عیش اور عیاشیا ں ہی عیاشیاں ہیں ایک وقت کے کھانے میں دس دس ڈشز کا اہتمام ہے، بڑے بڑے شاہی پروٹوکول اور سکیورٹی کے نام پر عوام کے پیسے سے مامور اہلکار دائیں بائیں دوڑتے بھاگتے سلیوٹ مارتے پھررہے ہیں یہ دنیا طاقت والوں کی دنیا ہے اس دنیا کے لوگوں کے لئے گویا سات خون معاف ہیں کوئی قانون کوئی ضابطہ کوئی ڈسپلن ان پر لاگو نہیں ہو تا جھوٹ بولنا بات سے مکرنا اور تھوک کر چاٹنا معمولی بات ہے انصاف اور طاقت کے ادارے انکی انگلی کے اشاروں پر ناچتے اور درباری نما”منصف“ انکے حکم کی تعمیل کو بے تاب نظر آتے ہیں ان حکمرانوں سرمایہ داروں جاگیرداروں وڈیروں کے پاس یوں تو سب کچھ ہے۔۔۔۔اگر کوئی کمی ہے تو شرم و حیا، سچائی اور غیرت کی کمی ہے۔۔۔ اگر نہیں ہے توانکے پاس مجبور عوام کی بے بسی دیکھنے کی بینائی نہیں ہے روٹی ادویات اور صاف پانی جیسی ضروریات کے لئے بلکتے عوام کی چیخ وپکار سننے کی قوت نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے اشرافیہ کی دنیا سے گھن سی آنے لگی۔۔۔۔میں نے ایک جھر جھری سی لی۔۔۔ اورجلدی سے واپس اپنی دنیامیں آگیا۔۔ یہ میری دنیا عوام کی دنیا ہے۔۔۔ جہاں سارا دن جہاں لوگوں کے پاس ایک وقت کے کھانے کا انتظام ہی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بنا ہو اہے۔۔عوام جن کے پاس موٹرسائیکل میں پیٹرول ڈلوانے کیلئے پیسے نہیں تھے۔۔۔اب انہیں پیٹرول ڈلوانے سے پہلے ہیلمٹ بھی خریدناہو گااس جرم عظیم میں انکے جابجا چالان ہورہے ہیں اورمحکمے فخر سے اعدادوشمار جاری کرہے ہیں کہ کتنے چالان کر کے غریبوں پر عرصہ ء حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔۔۔ عوام کا تھانوں میں پولیس سے واسطہ پڑجائے یا ناکوں پر سامنا ہوجائے بدترین تذلیل جیسے نصیب بن چکی ہے۔۔سرکاری دفاتر میں عزت نفس کی ایسی تیسی ہو جاتی ہے،روزانہ کی بنیاد پر بجلی کے نرخ بڑھا کر عوام پر بجلیاں گرائی جارہی ہیں لوگ بجلی کے بل ہاتھ میں لئے پھر رہے ہیں کوئی انکی حالت پر رحم کھانے والا نہیں ہے،اشرافیہ کی دنیا حکمرانوں کا رہن سہن دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ دنیا کہ امیر ترین ملک ہم ہیں مگراسی ملک کی عیاش طبع حکمران کلاس کے پاس عوام کے لئے کوئی ریلیف نہیں، کوئی آسانی نہیں کوئی خوش خبری نہیں، اقتدار کے ”یدھ“ میں عوام کی یہ حالت ہو چکی ہے کہ اب توغریب کے پاس نہ دال خریدنے کی طاقت بچی ہے نہ نان روٹی کے پیسے۔۔۔اگلے روز ایک تقریب جو عوامی اجتماع بن چکی تھی کے اختتام پرایک مفلوک الحال شخص نے کھانے کے بعد بچا کھچا سالن اور نان ایک شاپر میں ڈالے اور نکلنا چاہا تو ویٹر نے اسے ایسے دھر لیا جیسے چور پکڑا ہو۔۔۔مشکل سے اس غریب ”روٹی چور ُ“ کی اس ویٹر جان چھڑائی، اس ملک میں غریب اب بچے کھچے اور”جوٹھے“کا بھی حقدار نہیں رہا۔۔ اللہ نے اس سال پاکستانیوں کو گندم کی ریکارڈ فصل عطاء کی مگر ملک میں روٹی اب بھی لوگوں کامسئلہ نمبر ایک کیوں ہے؟ ایک کاروباری دوست نے کاروبار کا رونا رونے اور دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد بتایا کہ اچھے اچھے لوگ اس عید پر نئے کپڑے نہیں بناسکے مہنگائی نے لوگوں کے ہوش وہواس تک چھین لئے ہیں،حکمرانوں کی دن میں 36بار میڈیا ٹاک میں مہنگائی کے محض اعتراف سے غریب کے بچوں کا پیٹ نہیں بھر سکتا، قرآن مجید کی تقدیس کا دن منا نے والے حکمران۔۔۔قرآن کا حکم بھی تو مانیں، غریب کے لئے اسپتالوں میں ادویات نہیں، گھر میں روٹی نہیں،بچوں کی فیس نہیں، مکان کا کرایہ نہیں، لیکن پھر بھی غریبوں کے پاس وفا ہے،یہ جس کو لیڈر مانتے ہیں اسکے لئے مرنے کو تیار ہو جاتے ہیں،الیکشن کے دن سب سے زیادہ ووٹ دینے کے لئے بھی یہی نکلتے ہیں۔۔۔لیکن انہیں صلہ نہیں ملتا،اشرافیہ کی دنیا میں غریبوں کے لئے کچھ بھی نہیں تو کم ازکم روٹی کے نوالے کے قابل ہی چھوڑ دیں، یہ نئی نئی گاڑیاں، مراعات، بڑھتی تنخواہیں کرپشن اور فراڈ بازیاں دیکھیں تو لگتا ہے کہ ملک بہت امیر ہے لیکن پھٹے پرانے کپڑوں میں مفلوک الحال عوام کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ ہم سا غریب بھی کوئی کیا ہو گا، جو بھی حکمران آتا ہے جانے والوں کے نوحے سناتانہیں تھکتا جانے والوں کے ماتم چھوڑیں اپنے اپنے حصے کا حساب دینے کے لئے تیار رہیں۔۔۔نئی فارچونرز کے جھولے لینے والے بھی چاردن کے مزے لے لیں اور مجبور لاچار و بے بس عوام کے سینے پر مونگ دل لیں۔۔۔۔مگر یاد رکھیں کہ پلک جھپکنے میں انکی عیاشیوں کی دنیا ختم ہو نے والی ہے اوررب کا فرمان ہے کہ اسکا یوم حساب بڑا سخت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں